Thursday, 2 November 2017

ایک شعر

دن گزرےگا کیسے ہر دن یہ سوچتا ہوں
پل کی خبر نہیں ہے اور کل کی سوچتا ہوں

انداز بیاں

اس شہر میں چلتی ہے ہوا اور طرح کی
جرم اور طرح کے ہیں، سزا اور طرح کی۔۔۔

Friday, 14 April 2017

اندازِ بیاں

تجھکو خبر ہوئی نہ زمانہ سمجھ سکا
ہم چپکے چپکے تجھ پہ کئ بار مر گئے ۔۔۔

اندازِ بیاں

کچھ نفرتوں کی نزر ہوا میرا یہ وجود
باقی جو بچ گیا تھا،  محبت میں مر گیا۔۔۔

اندازِ بیاں

یہ ورق ورق تیری داستاں،  یہ سبق سبق تیرے تزکرے
میں کروں تو کیسے الگ کروں،  تجھے زندگی کی کتاب سے