Monday, 4 December 2017

غزل

خوشی ہمدم اگر ہوتی تو پھر رونے کو کیا ہوتا
اسے گر پا لیا ہوتا تو پھر کھونے کو کیا ہوتا ۔۔۔

وہ مجھ سے دور نہ ہوتے،  میں ان سے دور نہ ہوتا
یہ انہونی نہیں ہوتی تو پھر ہونے کو کیا ہوتا۔۔۔

میں جب جب تھک کے رکتا ہوں تو کاندھے چیخ اٹھتے ہیں،
یہ جیون بوجھ نہ ہوتا تو پھر ڈھونے کو کیا ہوتا۔۔۔

پڑے رہتے یونہی بنجر تمہارے کھیت صدیوں تک ،
میں مٹی میں نہیں ملتا تو پھر بونے کو کیا ہوتا۔۔۔

Thursday, 2 November 2017

ایک شعر

دن گزرےگا کیسے ہر دن یہ سوچتا ہوں
پل کی خبر نہیں ہے اور کل کی سوچتا ہوں

انداز بیاں

اس شہر میں چلتی ہے ہوا اور طرح کی
جرم اور طرح کے ہیں، سزا اور طرح کی۔۔۔