Thursday, 5 April 2018

غزل

اُدھر ہیں منجمد اب اشک میرے بہہ نہیں سکتے
اِدھر یہ حال ہے دردِ جدائی سہہ نہیں سکتے ۔۔

دھڑکنا دل کا بھی ہے شرطِ لازم زندہ رہنے کو،
فقط ایک سانس لینے کو تو جینا کہہ نہیں سکتے ۔۔

نہیں ہے جستجو تو خواب بھی بکھریں گے یہ طےء ہے
بنائے حوصلوں کے کچے مکاں بھی ڈھہہ نہیں سکتے ۔۔

غلط فہمی ہے سنگِ دل گُماں باقی رہے تیرا  ،
مگر کس نے کہا تجھ سے کہ تم بن رہ نہیں سکتے۔۔

از : شبلی فردوسی۔۔۔

Tuesday, 13 March 2018

غزل

وہ ہنسنا کھیلنا، اٹکھیلیاں کرنا روانی سے
تھا بچپن خوب تر تیرا میرے جاناں جوانی سے ۔۔

تمہاری آنکھیں نم ہیں، الجھنیں ہیں، ماجرا کیا ہے
کہ چشمِ نم جدا بچپن ہوا ہے نوجوانی سے  ۔۔

کہا تھا ہمسفر ہو تیرے بن نہ رہ سکیں گے ہم ۔۔،
ہوا کیا  ، بھر گیا پھر دل محبت کی کہانی سے۔۔؟؟

شِکن واضح ہیں ماتھے پہ تمہارے، اب پریشاں ہو
تم ہی نے مانگا تھا جبکہ یہ لمحہ زندگانی سے ۔۔

جلے گا گھر مِرا تو آنچ تم پہ بھی تو آئیگی  ۔۔ ،
نہ ہیں کیونکہ جدا نہ ساتھ، تیری مہربانی سے ۔۔

میری خاطر کرو ایک اور زحمت کو گوارا تم ۔۔ ،
وجہ  بتلاؤ  ترکِ تعلق  کا   حق بیانی  سے ۔۔

ہمیشہ کہتا ہوں پر سچ ہی جانو جو بھی کہتا ہوں،
نہیں  ہوگا  بیاں  باطل میری  صدقِ زبانی  سے ۔۔

زہِ قسمت تھے کچھ رہبر جنہوں نے حق بتایا تھا  ،
نہیں  بچ  پایا  پھر  بھی  میں  عشقِ ناگہانی  سے۔۔

مجھے تم سے نہیں کوئی شکایت خود سے ہے شبلی،
کہ میں ہی ہو گیا   بد دل   تمہاری  ہر   نشانی سے

از :-  شبلی فردوسی ۔۔۔

Wednesday, 10 January 2018

غزل

زندگی کی حقیقت تو کچھ بھی نہیں پھر بھی سینے سے اس کو لگائے ہوئے  ،
ورنہ جی چاہتا ہے اسے چھوڑ دیں کیوں ہیں بارِ گراں یہ اٹھائے ہوئے ۔۔۔

دیکھیئے آسماں اور دیتا ہے کیا اور دینے سے پہلے یہ لیتا ہے کیا  ،
میری جھولی میں جو کچھ ہے سب ہے تیرا ہم تو کب سے کھڑے سر جھکائے ہوئے ۔۔

میں فراقِ شبِ غم کا ایک داغ ہوں، جو بہاروں میں اجڑے میں وہ باغ ہوں،
یہ میرا ظرف ہے جی رہا ہوں ابھی آبروےء سِتمگر بچائے ہوئے ۔۔۔

پارسائی کا دعویٰ جنہوں نے کیا اور کہتے تھے جو خود کو اہلِ وفا،
داغ دامن پہ لیکر کھڑے تھے وہی آستینوں میں خنجر چھپائے ہوئے ۔۔۔

میں گنہگار ہوں یا کہ بدکار ہوں، مجھ کو اقرار ہے میں خطاکار ہوں،
اس لئے میں شریفوں کی دنیا سے دور اپنی دنیا الگ ہوں بسائے ہوئے ۔۔۔

کون ایسا نہ تھا جس نے کچھ نہ کہا پر بہ ایں پابندیء رسمِ وفا،
ایک شبلی خاموش تھا بزم میں قفل اپنی زباں پہ لگائے ہوئے ۔۔۔

از:- شبلی فردوسی۔۔

Wednesday, 3 January 2018

غزل

کیوں انگلیاں اٹھیں جو کبھی سوچ کر چلو، نہ سمت کی پہچان ہو تو پوچھ کر چلو ۔۔۔۔ ہے دور سے گلہ کہ غلط رہنمائی کی ۔۔، کچھ کام لو تم عقل سے خود دیکھ کر چلو ۔۔۔ رستہ دشوار کُن ہو کہ منزل ہو جتنی دور ۔۔ ، تم راہ کے پتھر کا جگر چیر کر چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کی مخلوق سب ، کیا قوم و رنگ و نصب ؟ انسان ہو انسان کے دکھ دور کر چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہے مجال کہ تمہیں روکے کوئی یزید ۔۔،، مانندِ حسین۴ اپنا جِگر خون کر چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دشمن کی چاہے فوج ہو حق پر ڈٹے رہو ۔۔ ،، کوشش کرو اور لہروں کو طوفان کر چلو۔۔۔۔۔ او نوجوانِ ملّت ، تم سے ہے یہ زمانہ ۔۔۔۔،، دل چاک رکھو، جان بھی قربان کر چلو ۔۔۔۔۔۔ پہچانو خود کو ، اپنا ذرا تجزیہ کرو ۔۔۔۔،، ممکن ہے پھر کہ ہر گہر نایاب کر چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ عالمِ فانی ہے یہاں دھوکا ہے شبلی ۔۔۔،، بیدار ہو اور رختِ سفر کوچ کر چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Monday, 18 December 2017

غزل

تصوّر کر کے تو دیکھو مجھے تم پاس پاؤگے
جو پیچھے چھوڑ آےُ ہو وہی احساس پاؤگے،

تمہیں تکلیف ہوتی ہے میرے خوابوں کی دستک سے
نگاہِ شوق سے دیکھوگے تو تعبیر پاؤگے۔۔۔۔ ،

تمہاری یاد سے اکثر میں دل کا خون کرتا ہوں
جو تم بھی یاد رکھوگے مجھے تو درد پاؤگے۔۔۔

میں سادہ لوح تھا شاید سمجھ میں آ نہیں پایا
کبھی کوشش ہو فرصت میں یقیناً جان جاؤگے۔۔۔

جلا کر اپنی ہستی کو کبھی پایا تمہیں میں نے
شمع جو تم جلاتے ہو صبح تک بجھ ہی جاؤگے۔۔۔ ،

دلیلیں کھوکھلی خالی،  چلو مانا میری ساری  ،
مگر تم ہی بتا دو یہ مجھے کیا بھول پاؤگے ۔۔؟؟

تکبّر پاس نہ لانا بلندی ہو بھلے جتنی  ،
گھمنڈ ہوگا جہاں تم کو وہیں سے مار کھاؤگے۔۔۔

یہ مقصودِ جہاں شبلی ابھی تم نے نہیں جانا،
تم خود سے روبرو ہوکر حقیقت جان جاؤگے۔۔۔

از: -  شبلی فردوسی۔

Monday, 4 December 2017

غزل

خوشی ہمدم اگر ہوتی تو پھر رونے کو کیا ہوتا
اسے گر پا لیا ہوتا تو پھر کھونے کو کیا ہوتا ۔۔۔

وہ مجھ سے دور نہ ہوتے،  میں ان سے دور نہ ہوتا
یہ انہونی نہیں ہوتی تو پھر ہونے کو کیا ہوتا۔۔۔

میں جب جب تھک کے رکتا ہوں تو کاندھے چیخ اٹھتے ہیں،
یہ جیون بوجھ نہ ہوتا تو پھر ڈھونے کو کیا ہوتا۔۔۔

پڑے رہتے یونہی بنجر تمہارے کھیت صدیوں تک ،
میں مٹی میں نہیں ملتا تو پھر بونے کو کیا ہوتا۔۔۔