Friday, 14 April 2017

اندازِ بیاں

تجھکو خبر ہوئی نہ زمانہ سمجھ سکا
ہم چپکے چپکے تجھ پہ کئ بار مر گئے ۔۔۔

اندازِ بیاں

کچھ نفرتوں کی نزر ہوا میرا یہ وجود
باقی جو بچ گیا تھا،  محبت میں مر گیا۔۔۔

اندازِ بیاں

یہ ورق ورق تیری داستاں،  یہ سبق سبق تیرے تزکرے
میں کروں تو کیسے الگ کروں،  تجھے زندگی کی کتاب سے

اندازِ بیاں

نہیں تم سے کوئی شکایت بس اتنی التجا ہے
جو حال کر گئے ہو،  کبھی دیکھنے مت آنا۔۔۔

اندازِ بیاں

دعا تو دیتا ہے میرا رقیب بھی لیکن
دعا کے عین پر نقطہ لگا کے دیتا ہے

Tuesday, 14 February 2017

غزل

دولتِ غم اپنے ہی اوپر ہم نے خوب لٹائ
سارے جہاں میں کوئی نہ ہوگا ہم سا حاتم طائی...

ہم نے کہا تھا پچھتاؤگے جانے کیسی ساعت تھی
چھوٹے منہ سے نکلی ہوئی بھی بات بڑی کہلائ...

فہم و فراست خواب کی باتیں جاگتی دنیا پاگل ہے
عقل کا سورج ماند ہوا ہے ذرّوں کی بن آئ...

دریا کی گہرائی ناپو موتی ہاتھ لگیں گے
کیا پاؤگے ناپ کے یاروں جزبوں کی گہرائی...

سود و زیاں کے بازاروں میں ڈھونڈھ رہا تھا اپنا مول
بن بہروپ کسی نے قیمت دو کوڑی نہ لگائی...

اپنی ذات میں ڈوبنے والے ٹھہرے اونچے لوگ
سب کا درد بٹانے والے کہلائیں ہرجائ...

Tuesday, 20 December 2016

غزل

دہلا ہے سینہ دشت کا طوفان کے ڈر سے
کیا جانے کہ وہ اٹھنا پڑے اب کے کدھر سے

اِک بات تھی جو دل میں رہی' لب پہ نہ آئ
راضی نہ تھے وہ سننے کو ' کہنے کو ہم ترسے

بنجر پڑی زمین کو قطروں کی آس تھی
دل کی یہ التجا تھی کہ دو بوند بھی برسے

کتنی مشقتیں ہیں تیری راہِ شوق میں
جو جاننا ہو پوچھ یہ خورشید و قمر سے

مومن ہے تو ہو خوفِ جہاں تجھ کو بھلا کیا
خوفِ خدا کو رکھ ' نہ ڈر فرعون و شِمر سے

یہ یاد رکھ کہ سجدہ گاہِ شوق ہے تیرا
ہر معجزہ پھر دیکھے گا مومن کی نظر سے

اللہ کی رضا ہو تیری عمر کا حصول
غافل نہ ہو ' قریب ہے تو اپنی قبر سے

صحراوُں کے ہر موج کی حد سے نکل شبلی
بے باک ہے تو پاک ہے ہر خوف و خطر سے.. 

از:- شبلی فردوسی...