Friday, 9 November 2018

علامہ اقبال ایک دن دہلی میں ۔۔۔

علامہ اقبال : ایک دن دہلی میں ۔۔

بقلم : شبلی فردوسی 

9 نومبر 2017 ، شاہیں باغ (اوکھلا)نئ دہلی ۔۔

آج بتاریخ 9 نومبر یومِ پیدائش حضرت حکیم الامت، شاعرِ مشرق علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے موقع پر ایک اقتباس حاضرِ خدمت ہے ، جس کا عنوان ہے " علامہ اقبال ایک دن دہلی میں " ۔ 

یہ علامہ کے یورپ کے سفر پر روانگی سے قبل کی روداد ہے، ان کے خطوط کے مطالعے سے انکی زندگی کے یہ ناقابلِ فراموش پہلو سامنے آئے ہیں، جس سے علامہ کی صوفیائے کرام سے عقیدت و محبت کا اندازہ بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔۔۔ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔

علامہ اقبال جب1905میں یکم ستمبر کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے لاہور سے یورپ روانہ ہوئے،تو2ستمبر کو دہلی پہنچےاورحضرت خواجہ نظام الدین اولیا رحمتہ اللہ علیہ کی درگاہ پر حاضری دی ۔یہاں36 اشعارپر مشتمل اپنی نظم’ التجائے مسافر‘سنائی۔

علامہ کو شہیدوں اور صوفیائے کرام سے اتنی عقیدت تھی کہ انہوں نے ٹیپو سلطان کے مزار پر یہ بات کہی تھی ؛قبر زندگی رکھتی ہے بہ نسبت ہم جیسے لوگوں کے جو بظاہر زندہ ہیں یا اپنے آپ کو زندہ ظاہر کر کے لوگوں کو دھوکا دیتے رہتے ہیں۔‘اس کا اندازہ محبوب الہی ٰحضرت نظام الدین اولیا رحمتہ اللہ علیہ کی درگاہ پر ان کی نظم ’التجائے مسافر‘ کے اس حصے سے بھی لگا سکتے ہیں؛

فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرا

بڑی جناب تیری ،فیض عام ہے تیرا

تری لحد کی زیارت ہے زندگی د ل کی

مسیح و خضر سے اونچا مقام ہے تیرا

اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں؛’دودفعہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کی درگاہ پر حاضر ہوا تھا۔خواجہ حسن نظامی صاحب نے بہت اچھی قوالی سنوائی ؛

ہند کا داتا ہے تو ،تیرا بڑا دربار ہے

کچھ ملے مجھ کو بھی اس دربار گوہر بار سے

علامہ کبھی کبھار دہلی آتے تھے ، جس میں ایک وجہ حکیم نابینا سے علاج و معالجہ کا سلسلہ بھی تھا۔

یہاں شروع میں 1905کے جس مختصر قیام کا ذکر کیا گیا ،اس میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ علامہ مرزا غالب کے مزار پر بھی گئے تھے ۔مرزا سے ان کی عقیدت کا اندازہ اسی بات سے لگا سکتے ہیں کہ مرزا غالب اور عبدالقادر کا نام لیتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے مجھے یہ سکھایا کہ مشرقیت کی روح کیسے زندہ رکھوں ۔‘

"علامہ اقبال غالب کے مزار پر": مجھ سے ضبط نہ ہوسکا آنکھیں پرنم ہوگئیں…

مرزا غالب کی طرح ہی علامہ کو آم بہت پسند تھے ،لکھتے ہیں ؛

آموں کی کشش ،کششِ علم سے کچھ کم نہیں ،یہ بات بلامبالغہ عرض کرتا ہوں کہ کھانے پینے کی چیزوں میں صرف آم ہی ایک ایسی شے ہے ،جس سے مجھے محبت ہے ‘۔

اس طرح کی بہت سی باتیں ہیں ،لیکن یہاں دہلی کی روداد علامہ کی زبانی ملاحظہ فرمائیے ؛

دہلی کے ریلوے اسٹیشن پر خواجہ سید حسن نظامی اور شیخ نذر محمد صاحب اسسٹنٹ انسپکٹر مدارس موجود تھے۔تھوڑی دیر کے لیے شیخ صاحب موصوف کے مکان پر قیام کیا ۔ازاں بعد حضرت محبوب الہیٰ کے مزار پر حاضر ہوا اور تمام دن بسر کیا ۔اللہ اللہ ! حضرت محبوب الہیٰ کا مزار بھی عجیب جگہ ہے ۔بس یہ سمجھ لیجیے کہ دہلی کی پرانی سوسائٹی حضرت کے قدموں میں مدفون ہے ۔خواجہ حسن نظامی کیسے خوش قسمت ہیں کہ ایسی خاموش اور عبرت انگیز جگہ میں قیام رکھتے ہیں ۔شام کے قریب ہم اس قبرستان سے رخصت ہونے کو تھے کہ میر نیرنگ نے خواجہ صاحب سے کہا کہ ذرا غالب مرحوم کے مزار کی زیارت بھی ہوجائے کہ شاعروں کا حج یہیں ہوتا ہے۔خواجہ صاحب موصوف ہم کو قبرستان کے ایک ویران سے گوشے میں لے گئے جہاں وہ گنج معانی مدفون ہے ،جس پر خاک دہلی ہمیشہ ناز کرے گی ۔حسن اتفاق سے اس وقت ہمارے ساتھ ایک نہایت خوش آواز لڑکا ولایت نام تھا،اس ظالم نے مزار کے قریب بیٹھ کر ۔۔۔۔۔دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی ۔۔۔۔۔۔کچھ ایسی خوش الحانی سے گائی کہ سب کی طبیعتیں متاثر ہوگئیں ،بالخصوص جب اس نے یہ شعر پڑھا:

وہ بادہ شبانہ کی سرمستیاں کہاں

اٹھیے بس اب کہ لذت خواب سحر گئی

تو مجھ سے ضبط نہ ہوسکا ،آنکھیں پرنم ہوگئیں اور بے اختیار لوح مزار کو بوسہ دے کر اس حسرت کدے سےرخصت ہوا۔یہ سماں اب تک ذہن میں ہے اور جب کبھی یاد آتا ہے تو دل کو تڑپاتا ہے۔

اگرچہ دہلی کے کھنڈر مسافر کے دامن دل کو کھینچتے ہیں ،مگر میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ ہر مقام کی سیر سے عبرت اندوز ہوتا ۔شہنشاہ ہمایوں کے مقبرے پر فاتحہ پڑھا ،دارشکوہ کے مزار کی خاموشی میں دل کے کانوں سے ھوالموجود کی آواز سنی اور دہلی کی عبرتناک سرزمین سے ایک ایسا اخلاقی اثر لے کر رخصت ہوا،جو صفحہ دل سے کبھی نہ مٹے گا۔3ستمبر کی صبح کو میر نیرنگ اور شیخ محمد اکرام اور باقی دوستوں سے دہلی میں رخصت ہوکر بمبئی کو روانہ ہوااور 4ستمبر کو خدا خدا کرکے اپنے سفر کی پہلی منزل پر پہنچا۔

Thursday, 5 April 2018

غزل

اُدھر ہیں منجمد اب اشک میرے بہہ نہیں سکتے
اِدھر یہ حال ہے دردِ جدائی سہہ نہیں سکتے ۔۔

دھڑکنا دل کا بھی ہے شرطِ لازم زندہ رہنے کو،
فقط ایک سانس لینے کو تو جینا کہہ نہیں سکتے ۔۔

نہیں ہے جستجو تو خواب بھی بکھریں گے یہ طےء ہے
بنائے حوصلوں کے کچے مکاں بھی ڈھہہ نہیں سکتے ۔۔

غلط فہمی ہے سنگِ دل گُماں باقی رہے تیرا  ،
مگر کس نے کہا تجھ سے کہ تم بن رہ نہیں سکتے۔۔

از : شبلی فردوسی۔۔۔

Tuesday, 13 March 2018

غزل

وہ ہنسنا کھیلنا، اٹکھیلیاں کرنا روانی سے
تھا بچپن خوب تر تیرا میرے جاناں جوانی سے ۔۔

تمہاری آنکھیں نم ہیں، الجھنیں ہیں، ماجرا کیا ہے
کہ چشمِ نم جدا بچپن ہوا ہے نوجوانی سے  ۔۔

کہا تھا ہمسفر ہو تیرے بن نہ رہ سکیں گے ہم ۔۔،
ہوا کیا  ، بھر گیا پھر دل محبت کی کہانی سے۔۔؟؟

شِکن واضح ہیں ماتھے پہ تمہارے، اب پریشاں ہو
تم ہی نے مانگا تھا جبکہ یہ لمحہ زندگانی سے ۔۔

جلے گا گھر مِرا تو آنچ تم پہ بھی تو آئیگی  ۔۔ ،
نہ ہیں کیونکہ جدا نہ ساتھ، تیری مہربانی سے ۔۔

میری خاطر کرو ایک اور زحمت کو گوارا تم ۔۔ ،
وجہ  بتلاؤ  ترکِ تعلق  کا   حق بیانی  سے ۔۔

ہمیشہ کہتا ہوں پر سچ ہی جانو جو بھی کہتا ہوں،
نہیں  ہوگا  بیاں  باطل میری  صدقِ زبانی  سے ۔۔

زہِ قسمت تھے کچھ رہبر جنہوں نے حق بتایا تھا  ،
نہیں  بچ  پایا  پھر  بھی  میں  عشقِ ناگہانی  سے۔۔

مجھے تم سے نہیں کوئی شکایت خود سے ہے شبلی،
کہ میں ہی ہو گیا   بد دل   تمہاری  ہر   نشانی سے

از :-  شبلی فردوسی ۔۔۔

Wednesday, 10 January 2018

غزل

زندگی کی حقیقت تو کچھ بھی نہیں پھر بھی سینے سے اس کو لگائے ہوئے  ،
ورنہ جی چاہتا ہے اسے چھوڑ دیں کیوں ہیں بارِ گراں یہ اٹھائے ہوئے ۔۔۔

دیکھیئے آسماں اور دیتا ہے کیا اور دینے سے پہلے یہ لیتا ہے کیا  ،
میری جھولی میں جو کچھ ہے سب ہے تیرا ہم تو کب سے کھڑے سر جھکائے ہوئے ۔۔

میں فراقِ شبِ غم کا ایک داغ ہوں، جو بہاروں میں اجڑے میں وہ باغ ہوں،
یہ میرا ظرف ہے جی رہا ہوں ابھی آبروےء سِتمگر بچائے ہوئے ۔۔۔

پارسائی کا دعویٰ جنہوں نے کیا اور کہتے تھے جو خود کو اہلِ وفا،
داغ دامن پہ لیکر کھڑے تھے وہی آستینوں میں خنجر چھپائے ہوئے ۔۔۔

میں گنہگار ہوں یا کہ بدکار ہوں، مجھ کو اقرار ہے میں خطاکار ہوں،
اس لئے میں شریفوں کی دنیا سے دور اپنی دنیا الگ ہوں بسائے ہوئے ۔۔۔

کون ایسا نہ تھا جس نے کچھ نہ کہا پر بہ ایں پابندیء رسمِ وفا،
ایک شبلی خاموش تھا بزم میں قفل اپنی زباں پہ لگائے ہوئے ۔۔۔

از:- شبلی فردوسی۔۔

Wednesday, 3 January 2018

غزل

کیوں انگلیاں اٹھیں جو کبھی سوچ کر چلو، نہ سمت کی پہچان ہو تو پوچھ کر چلو ۔۔۔۔ ہے دور سے گلہ کہ غلط رہنمائی کی ۔۔، کچھ کام لو تم عقل سے خود دیکھ کر چلو ۔۔۔ رستہ دشوار کُن ہو کہ منزل ہو جتنی دور ۔۔ ، تم راہ کے پتھر کا جگر چیر کر چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کی مخلوق سب ، کیا قوم و رنگ و نصب ؟ انسان ہو انسان کے دکھ دور کر چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہے مجال کہ تمہیں روکے کوئی یزید ۔۔،، مانندِ حسین۴ اپنا جِگر خون کر چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دشمن کی چاہے فوج ہو حق پر ڈٹے رہو ۔۔ ،، کوشش کرو اور لہروں کو طوفان کر چلو۔۔۔۔۔ او نوجوانِ ملّت ، تم سے ہے یہ زمانہ ۔۔۔۔،، دل چاک رکھو، جان بھی قربان کر چلو ۔۔۔۔۔۔ پہچانو خود کو ، اپنا ذرا تجزیہ کرو ۔۔۔۔،، ممکن ہے پھر کہ ہر گہر نایاب کر چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ عالمِ فانی ہے یہاں دھوکا ہے شبلی ۔۔۔،، بیدار ہو اور رختِ سفر کوچ کر چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Monday, 18 December 2017

غزل

تصوّر کر کے تو دیکھو مجھے تم پاس پاؤگے
جو پیچھے چھوڑ آےُ ہو وہی احساس پاؤگے،

تمہیں تکلیف ہوتی ہے میرے خوابوں کی دستک سے
نگاہِ شوق سے دیکھوگے تو تعبیر پاؤگے۔۔۔۔ ،

تمہاری یاد سے اکثر میں دل کا خون کرتا ہوں
جو تم بھی یاد رکھوگے مجھے تو درد پاؤگے۔۔۔

میں سادہ لوح تھا شاید سمجھ میں آ نہیں پایا
کبھی کوشش ہو فرصت میں یقیناً جان جاؤگے۔۔۔

جلا کر اپنی ہستی کو کبھی پایا تمہیں میں نے
شمع جو تم جلاتے ہو صبح تک بجھ ہی جاؤگے۔۔۔ ،

دلیلیں کھوکھلی خالی،  چلو مانا میری ساری  ،
مگر تم ہی بتا دو یہ مجھے کیا بھول پاؤگے ۔۔؟؟

تکبّر پاس نہ لانا بلندی ہو بھلے جتنی  ،
گھمنڈ ہوگا جہاں تم کو وہیں سے مار کھاؤگے۔۔۔

یہ مقصودِ جہاں شبلی ابھی تم نے نہیں جانا،
تم خود سے روبرو ہوکر حقیقت جان جاؤگے۔۔۔

از: -  شبلی فردوسی۔